Saturday, 25 January 2014

سورج گرہن سے علاج

سورج گرہن سے علاج کی کوشش

سورج گرہن کے ساتھ بہت سی توہمات اور پیش گوئیاں جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں اور ناخواندہ طبقے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جب بھی سورج گرہن ہو تو لوگ اس موقع پر دریا ئے سندھ کے کنار ے اپنے بچوں کو دھڑتک ریت میں دبا دینے سے جسمانی معذوری دور ہوجاتی ہے ۔
بچوں کو دھڑ تک سمندر کی ریت میں دبایا گیا ہے
بچوں کو دھڑ تک سمندر کی ریت میں دبایا گیا ہے

سال دوہزار گیارہ کا پہلا جزوی سورج گرہن منگل چار جنوری کو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دیکھا گیا۔ ماہرین فلکیات نے جہاں اس جزوی سورج گرہن کو پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے ممکنہ طور پر بھاری قرار دیا ہے وہاں بہت سے عام قدامت پسند افراد کا عقیدہ ہے کہ ان کے معذور بچوں کا علاج اس گرہن سے ممکن ہے۔
منگل کو کراچی کے ساحل ِ سمندر پر ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جب ایک درجن کے قریب والدین اپنے کم عمر بچوں کے ہمراہ ساحل پر پہنچے اور ان کے جسم کے آدھے سے زائد حصے کوسمندر کی مٹی میں دبا دیاگیا۔ یہ بچے پیدائشی طور پر اعصابی اور جسمانی معذوری کا شکار تھے ۔
 وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے وہاں موجود تمام والدین کا کہنا تھا کہ وہ سب پہلی مرتبہ یہاں آئے ہیں۔ انھیں یا ان کے خاندان کا ماضی میں ایسا کوئی تجربہ نہیں رہا تاہم منگل کی صبح ٹی وی پر اس بارے میں سنا تو وہ بھی یہ تجربہ کرنے اپنے بچوں کو لے کر ساحل پہنچے۔
سورج گرہن سے علاج کی کوشش
سورج گرہن سے علاج کی کوشش
ساحلِ سمندر پر نیو کراچی سے آئی ایک خاتون نغمہ نے اپنے پانچ سالہ روتے بلکتے بچے کو مٹی میں دبا رکھا تھا۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنے بچے کا علاج کروا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بچہ چل نہیں سکتا۔ ” میں نے اسے پندرہ منٹ سے دبا رکھا ہے اور ابھی یہ مزید ایک گھنٹہ ریت میں ہی رہے گا۔ نغمہ نے بتایا کہ ان کے پاس طریقہ علاج کا نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ تجربہ لیکن میڈیا کے ذریعے دوسروں کے تجربات دیکھ کر میں نے دو تین لوگوں سے مشورہ کیا اور اسے یہاں لے آئی۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ اسے شفا دے دے گا۔ “
منگل کو مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کرتی رہی کہ حیدرآباد میں دریائے سندھ کے کنارے قریبی علاقوں سے آئے کچھ خاندانوں نے اپنے بچوں کو مٹی میں دبا رکھا ہے۔ ان خاندانوں کا یہ ماننا تھا کہ اس عمل سے پہلے بھی خود وہ اور ا ن کے رشتہ دار صحت یاب ہوچکے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ان کے بچوں کی بھی جسمانی معذوری دور ہوجائے گی۔
 سورج گرہن کے ساتھ بہت سی توہمات اور پیش گوئیاں جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں اور ناخواندہ طبقے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جب بھی سورج گرہن ہو تو لوگ اس موقع پر دریا ئے سندھ کے کنار ے اپنے بچوں کو دھڑتک ریت میں دبا دینے سے جسمانی معذوری دور ہوجاتی ہے ۔
کراچی کے علاقے کورنگی سے آئے انیس مسیح نجی کمپنی میں ملازم ہیں۔ ان کی چار سالہ بیٹی کا ہاتھ سورج گرہن سے ہی متاثر ہوا تھا اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ ان کے بقول ” مجھے گذشتہ سال اس طریقہ علاج کے بارے میں معلوم ہوا لیکن تب تک جرہن کا وقت جزر چکا تھا۔ آج جب ٹی وی پر دیکھا تو آفس چھوڑ کر بیٹی کو یہاں لے آیا۔جتنی دیر تک گرہن رہے گا اسے مٹی میں ہی رکھنا ہے۔“
 پولیو یا دوسری جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے بچوں کو گرہن کے وقت مٹی میں دبا دینے سے متعلق ما ہرینِ صحت کہتے ہیں کہ یہ عمل ایک بیماری سے بچانے کے لیے دوسری بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سخت سردی میں ریت میں دبا دینے سے بچوں کو نمونیا ہوسکتا ہے۔ ماہرینِ صحت کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں 90 فیصد بیماریوں کا علاج موجود ہے ۔ آپریشن کے ذریعے ٹیڑھی ہڈی کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کم عقیدے والے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ریت میں دبا دینے سے ان کے بچے ٹھیک ہوجائیں گے۔
سورج گرہن سے علاج کی کوشش
سورج گرہن سے علاج کی کوشش
محکمہ موسمیات کے مطابق سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق 11 بج کر ایک منٹ پر شروع ہوا ۔ سورج کو واضح گرہن دوپہر ایک بج کر 51 منٹ پر لگا اوراس کا اختتام شام چار بج کر ایک منٹ پر ہوا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق سال 2011 ء میں جزوی طور پر چار سورج گرہن دو چاند گرہن ہوں گے۔سال کا پہلا سورج گرہن 4 جنوری کو ہوا اور آخری 25 نومبر کو ہوگا تاہم چاروں سورج گرہن جزوی ہوں گے جن میں تین ایشیا میں دیکھے جاسکیں گے۔ چاند گرہن مکمل ہوں گے جو ایشیا میں بھی نظر آئیں گے ۔
 زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب دورانِ گردش چاند سورج اور زمین کے درمیان آجائے اور سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہوجائے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سورج گرہن براہِ راست دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ اس سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

سورج گرہن کی نماز

باب : سورج گرہن کی نماز کا بیان۔
445 : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا۔ پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور بہت قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا ( یہ ایک رکعت میں دو رکوع ہوئے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے ) پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے مگر پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم ( یہ بھی دو رکوع ہوئے ) پھر سجدہ کیا اور فارغ ہوئے اور آفتاب اتنے میں کھل گیا تھا۔ پھر لوگوں پر خطبہ پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پھر جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس سے دعا کرو اور نماز پڑھو اور خیرات کرو۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں اس بات میں کہ اس کا غلام یا باندی زنا کرے۔ اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ کی قسم ! جو میں جانتا ہوں اگر
تم جانتے ہوتے تو بہت روتے اور تھوڑا ہنستے۔ سن لو ! کیا میں نے اللہ کا حکم پہنچا نہیں دیا؟

سورج گرہن کا ایک منظر
سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند ، زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوکر اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔
آسٹریلیا کے شمالی علاقوں میں بدھ کی صبح مکمل سورج گرہن سے تاریکی چھا گئی ۔
مکمل سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ افراد نے ان علاقوں کا سفر کیا جہاں مکمل گرہن دکھائی دینے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند ، زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوکر اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔زمین سے عام طورپر جزوی گرہن دکھائی دیتے ہیں اور مکمل گرہن کا نظارہ عرصے بعد ہوتا ہے۔
گرہن کا منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد نے ساحل سمندر کا رخ کیا۔ انہوں نے نقصان دہ شعاعوں سے بچنے کے لیے خصوصی چشمے پہن رکھے تھے۔
مکمل سورج گرہن کے نظارے
مکمل سورج گرہن کے نظارے
بہت سے افراد گرہن کو زیادہ واضح دیکھنے کے لیے کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر میں دور تک چلے گئے اور کئی افراد نے گرم ہوا کے خصوصی غباروں میں بیٹھ کر بلندی سے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا۔
گرہن شروع ہونے سے قبل آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئےتھے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ شاید لوگ یہ منظر نہیں دیکھ سکیں گے۔ لیکن جیسے جیسے گرہن شروع ہونے کا قریب آتا گیا، بادل چھٹتے اورمنظر واضح ہوتا گیا۔
اگلا مکمل سورج گرہن مارچ 2015 میں ہوگا۔

سورج گرہن

 سورج گرہن زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب، دورانِ گردش، چاند زمین اور سورج کے درمیان آجائے اور سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جائے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے چار سو گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط چاند کےمحیط سے چار سو گنا زیادہ ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لے۔ بعض لوگ جن میں سائنسدان شامل ہیں، دور دراز سے سفر طے کر کے سورج گرہن کا مشاہدہ کرتے ہیں کیونکہ سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو آپ سال میں کئی دفعہ دیکھ سکتے ہیں۔ 1999 کا مکمل سورج گرہن جو یورپ میں دیکھا جا سکتا تھا، تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا سورج گرہن تھا۔
 سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے۔ 
مکمل سورج گرہن حلقی سورج گرہن مخلوط سورج گرہن جزوی سورج گرہن یہ ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں زمین کے ایک حصے میں مکمل سورج گرہن ہو اور دوسرے حصے میں جزوی گرہن ہو۔ فہرست [غائب کریں] 1 مکمل سورج گرہن 2 حلقی سورج گرہن 3 مخلوط سورج گرہن 4 جزوی سورج گرہن 5 سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق 6 سورج گرہن اور مذہب 7 اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن 8 بیرونی روابط مکمل سورج گرہن
] 1999 کا مکمل سورج گرہن مکمل سورج گرہن اس وقت لگتا ہے۔ جب چاند کا فاصلہ زمین سے اتنا ہو کہ جب وہ سورج کے سامنے آئے تو سورج مکمل طور پر چھپ جائے۔ چونکہ چاند اور زمین کے مدار بیضوی ہیں اس لیے کے مدار چاند کا زمین سے فاصلہ بدلتا رہتا ہے اس لیے ہر دفعہ مکمل سورج گرہن نہیں لگتا۔ مکمل سورج گرہن کے وقت چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس میں سورج کے مکمل چھپ جانے کی وجہ سے نیم اندھیرا ہو جاتا ہے اور دن کے وقت ستارے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ زیادہ سے زیادہ ایک مقام پر سات منٹ چالیس سیکنڈ کے لیے ہو سکتا ہے مگر دورانیہ اکثر اس سے کہیں کم ہوتا ہے
۔ 3000 قبل مسیح سے 5000 عیسوی تک کے 8 ھزار سالہ عرصہ کا سب سے لمبا مکمل سورج گرہن 16جولائی 2186 عیسوی کو لگے گا جو سات منٹ اور انتیس سیکنڈ کا ہوگا۔ مکمل سورج گرہن زمین پر بہت تھوڑے علاقے پر ایک وقت میں نظر آتا ہے۔ اور ایک ہی مقام پر دوبارہ 370 سال بعد ہی نظر آ سکتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل سورج گرہن ھمیشہ نہیں ہوتے رہیں گے کیونکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو تاکہ وہ سورج کی ٹکی کو مکمل طور پر چھپا سکے۔ افزائش مدوجزری کی وجہ سے چاند کا مدار ھر سال 3.8 سنٹی میٹر بڑھ جاتا ہے۔ ساٹھ کروڑ سال کے بعد چاند کا کم ترین فاصلہ زمین سے اتنا بڑھ جائے گا کہ کبھی مکمل سورج گرہن نہیں لگے گا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رہے کہ اتنے سال بعد سائنسدانوں کے مطابق سورج کا حجم بھی کچھ بڑھ چکا ہوگا۔ یوں مکمل سورج گرہن پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔ حلقی سورج گرہن[ترمیم] حلقی(Annular) سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آ جائے مگر اس کا فاصلہ زمین سے مکمل سورج گرہن سے نسبتاً زیادہ ہو۔ اس سے چاند کی جسامت زمین سے کم محسوس ہوگی اور وہ سورج کو مکمل طور پر چھپا نہیں سکتا۔ اس وقت اگر چاند سورج کے بالکل درمیان میں نظر آئے تو اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے اور ھمیں سورج کاصرف وہ حصہ نظر آئے گا جسے چاند نہیں چھپا رہا اور اس کی شکل ایک حلقہ کی طرح ہوگی۔ یوں سمجھئیے کہ روشنی کا ایک حلقہ نظر آئے گا جو بعض اوقات باریک ہوتا ہے اور بعض اوقات موٹا۔ ۔ بائیں ہاتھ پر دی گئی تصویر سے میں آپ ایک حلقی سورج گرہن دیکھ سکتے ہیں۔ سورج گرہن حلقی ہوگا یا مکمل، اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ مثلاً چاند کا زمین سے فاصلہ۔ چاند کا زمین سے فاصلہ افزائش مدوجزری کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے ایک وقت کے بعد مکمل سورج گرہن نظر نہیں آ سکے گا۔ مگر حلقی سورج گرہن کا امکان کچھ زیادہ عرصہ تک رہے گا۔ حلقی سورج گرہن میں چاند سورج کے آگے سے گذرتا ہوا یہ صرف چاند کے زمین سے فاصلہ پر منحصر نہیں بلکہ زمین سے سورج کے فاصلے پر بھی منحصر ہے۔ جولائی میں جب زمین سورج کے گرد اپنے بیضوی مدار میں جنوری کی نسبت دور ہوتا ہے تو سورج کی جسامت زمین پر کم نظر آتی ہے چنانچہ مکمل سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جنوری میں جب زمین اپنے مدار میں سورج کے قریب ترین فاصلہ پر ہوتا ہے تو سورج نسبتا بڑا نظر آتا ہے اور چاند کے لیے اسے مکمل طور پر چھپانا مشکل ہوتا ہے چنانچہ حلقی سورج گرہن کا امکان زیادہ ہوگا۔ حلقی، مخلوط اور مکمل گرہنوں کو مرکزی گرہن بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ چاند تقریباً سورج کے بالکل درمیان آجاتا ہے۔ مرکزی گرہنوں میں سے ساٹھ فی صد کے قریب حلقی ہوتے ہیں۔ حلقی سورج گرہن مخلوط قسم کا بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی کہیں حلقی نظر آئے تو زمین کے کسی حصے پر مکمل بھی نظر آ رہا ہو۔ مخلوط سورج گرہن
 بعض اوقات سورج گرہن اس طرح لگتا ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں مکمل سورج گرہن نظر آتا ہے اور بعض حصوں میں حلقی۔ اسے مخلوط سورج گرہن(Hybrid Solar Eclipse) کہتے ہیں جو مرکزی سورج گرہن کی ایک اور قسم ہے۔۔ اس صورت میں حلقی سورج گرہن کا حلقہ بہت باریک ہوگا۔ مخلوط قسم کے سورج گرہن بہت کم ہوتے ہیں۔ جزوی سورج گرہن[ترمیم] یکم اگست 2008 کا سورج گرہن پاکستان میں بھی نظر آئے گا۔ چاند کا سایہ پاکستان پر سے گذرے گا جزوی سورج گرہن ایسی صورتحال کو کہتے ہیں جب دورانِ گرہن چاند سورج کے بالکل درمیان میں نہ نظر آئے بلکہ صفر جزوی طور پر سورج کو زمین والوں کی نظروں سے چھپا رہا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ زمین کے ایک مختصر حصے پر تو مرکزی سورج گرہن ہو مگر ایک بڑے حصے پر جزوی گرہن نظر آئے جیسا کہ شروع میں دی گئی ایک تصویر میں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دورانِ گرہن کہیں بھی مرکزی گرہن نظر نہ آئے اور گرہن صرف جزوی ہو۔ زیادہ تر گرہن جزوی ہوتے ہیِں۔ جزوی سورج گرہن کو ننگی آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے بصارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے لیے فلٹراستعمال کرنا چاہئے۔ صرف دھوپ کے چشمے کافی نہیں کیونکہ ان سے روشنی سے تو بچت ہوگی مگر زیریں سرخ شعائیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جزوی سورج گرہن کے دوران مکمل اندھیرا نہیں ہوتا۔ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق[ترمیم] کسی بھی چاند گرہن اور سورج گرہن میں 13.9 سے 15.6 دن کا فرق ہوتا ہے۔ عموماً چاند گرہن اسلامی مہینے کی 13، 14 یا 15 کو اور سورج گرہن اسلامی مہینے کی 28 یا 29 کو ہوتا ہے۔ سورج گرہن اور مذہب
 سورج گرہن کو قدیم و جدید سب مذاہب میں خدا کی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعض مذاہب اسے منحوس سمجھتے ہیں اور بعض کے نزدیک یہ خدا کے ناراض ہونے کی نشانی ہے۔ اسلام میں اس کی سائنسی حقیقت کو تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ سورج اور چاند خدا کے معین کردہ راستے پر چلتے ہیں اور گردش میں ہیں۔ مگر سورج گرہن کے بعد ایک نماز پڑھی جاتی ہے جسے صلوۃ کسوف یا نمازِ خوف یا نمازِ آیات کہا جاتا ہے۔ آیات یہاں نشانات کے معنی میں آتا ہے۔ اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن[ترمیم] 22 جولائی 2009ء کی تاریخ کا گرہن میں اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہے۔ اس کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے ہے۔ یہ پاکستان، بھارت اور چین میں نظر آئے گا۔ اس قسم کا طویل سورج گرہن اس کے بعد 123 سال بعد 2132ء میں دیکھا جا سکے گا۔

Friday, 17 January 2014

Solar Eclipse 2014

Solar Eclipse Frequency and Future Eclipses

During the five thousand year period 2000 BCE to 3000 CE, planet Earth experiences 11,898 solar eclipses as follows:
Solar Eclipses: 2000 BCE to +3000 CE
Eclipse TypeSymbolNumberPercent
All Eclipses-11898100.0%
PartialP420035.3%
AnnularA395633.2%
TotalT317326.7%
HybridH5694.8%
This works out to an average 2.4 eclipses each year. Actually, the number of solar eclipses in a single year can range from 2 to 5. Nearly 3/4 of the time there are 2 eclipses in a year. On the other hand, it is quite rare to have 5 solar eclipses in a single year. The last time it happened was in 1935 and the next time is 2206. Typically there is 1 total eclipse every 1 to 2 years. Although it is possible to have 2 total eclipses in a single year, it is quite rare. Examples of years containing 2 total eclipses are 1712, 1889, 2057 and 2252.
The table below lists every solar eclipse from 2009 through 2015. Click on the eclipse Calendar Date to see a global map showing where the eclipse is visible from. The Eclipse Type link opens a window showing the path of total and annular eclipses plotted on Google Maps. The Eclipse Magnitude is the fraction of the Sun's diameter covered by the Moon at greatest eclipse. For total and annular eclipses, this value is actually the ratio of the apparent diameters of the Moon to the Sun. The Central Duration lists the duration of totality or annularity at greatest eclipse. The link produces a table of geographic coordinates of the eclipse path. The last column is a brief description of the geographic regions of eclipse visibility. The descriptions in bold are for the paths of total or annular eclipses.

Eclipses of the Sun: 2009 - 2015
Calendar DateEclipse TypeEclipse MagnitudeCentral DurationGeographic Region of Eclipse Visibility
(Link to Global Map)(Link to Google Map)(Link to Path Table)
2009 Jan 26Annular0.92807m54ss Africa, Antarctica, se Asia, Australia
[Annular: s Indian, Sumatra, Borneo]
2009 Jul 22Total1.08006m39se Asia, Pacific Ocean, Hawaii
[Total: India, Nepal, China, c Pacific]
2010 Jan 15Annular0.91911m08sAfrica, Asia
[Annular: c Africa, India, Malymar, China]
2010 Jul 11Total1.05805m20ss S. America
[Total: s Pacific, Easter Is., Chile, Argentina]
2011 Jan 04Partial0.858-Europe, Africa, c Asia
2011 Jun 01Partial0.601-e Asia, n N. America, Iceland
2011 Jul 01Partial0.097-s Indian Ocean
2011 Nov 25Partial0.905-s Africa, Antarctica, Tasmania, N.Z.
2012 May 20Annular0.94405m46sAsia, Pacific, N. America
[Annular: China, Japan, Pacific, w U.S.]
2012 Nov 13Total1.05004m02sAustralia, N.Z., s Pacific, s S. America
[Total: n Australia, s Pacific]
2013 May 10Annular0.95406m03sAustralia, N.Z., c Pacific
[Annular: n Australia, Solomon Is., c Pacific]
2013 Nov 03Hybrid1.01601m40se Americas, s Europe, Africa
[Hybid: Atlantic, c Africa]
2014 Apr 29Annular0.987-s Indian, Australia, Antarctica
[Annular: Antarctica]
2014 Oct 23Partial0.811-n Pacific, N. America
2015 Mar 20Total1.04502m47sIceland, Europe, n Africa, n Asia
[Total: n Atlantic, Faeroe Is, Svalbard]
2015 Sep 13Partial0.787-s Africa, s Indian, Antarctica
Geographic abbreviations (used above): n = north, s = south, e = east, w = west, c = central

Eclipse 2014

Lunar Eclipse Frequency and Future Eclipses
Penumbral eclipses are of little interest because they are hard to see. If we consider only partial and total lunar eclipses, how often do they occur?
During the five thousand year period from 2000 BCE through 3000 CE, there are 7,718 eclipses of the Moon (partial and total). This averages out to about one and a half eclipses each year. Actually, the number of lunar eclipses in a single year can range from 0 to 3. The last time that 3 total lunar eclipses occurred in one calendar year was in 1982. Partial eclipses slightly outnumber total eclipses by 7 to 6.
The table below lists every lunar eclipse from 2009 through 2015. Click on the eclipse Date to see a diagram of the eclipse and a world map showing where it is visible from. Although penumbral lunar eclipses are included in this list, they are usually hard to see because they are faint.
The Umbral Magnitude is the fraction on the Moon's diameter immersed in the umbra at maximum eclipse. For values greater than 1.0, it is a total eclipse. For negative values, it is a penumbral eclipse. The Eclipse Duration column lists the length of the partial eclipse in hours and minutes. If it is a total eclipse, two values are given. The first is the amount of time between the start and end of the partial phases while the second (in bold) is the length of the total eclipse.

Eclipses of the Moon: 2009 - 2015
DateEclipse TypeUmbral MagnitudeEclipse DurationGeographic Region of Eclipse Visibility
2009 Feb09Penumbral-0.088-e Europe, Asia, Aus., Pacific, w N.A.
2009 Jul07Penumbral-0.913-Aus., Pacific, Americas
2009 Aug06Penumbral-0.666-Americas, Europe, Africa, w Asia
2009 Dec31Partial0.07601h02mEurope, Africa, Asia, Aus.
2010 Jun26Partial0.53702h43me Asia, Aus., Pacific, w Americas
2010 Dec21Total1.25603h29m
01h12m
e Asia, Aus., Pacific, Americas, Europe
2011 Jun 15Total1.70003h40m
01h40m
S.America, Europe, Africa, Asia, Aus.
2011 Dec 10Total1.10603h32m
00h51m
Europe, e Africa, Asia, Aus., Pacific, N.A.
2012 Jun 04Partial0.37002h07mAsia, Aus., Pacific, Americas
2012 Nov 28Penumbral-0.187-Europe, e Africa, Asia, Aus., Pacific, N.A.
2013 Apr 25Partial0.01500h27mEurope, Africa, Asia, Aus.
2013 May 25Penumbral-0.934-Americas, Africa
2013 Oct 18Penumbral-0.272-Americas, Europe, Africa, Asia
2014 Apr 15Total1.29103h35m
01h18m
Aus., Pacific, Americas
2014 Oct 08Total1.16603h20m
00h59m
Asia, Aus., Pacific, Americas
2015 Apr 04Total1.00103h29m
00h05m
Asia, Aus., Pacific, Americas
2015 Sep 28Total1.27603h20m
01h12m
e Pacific, Americas, Europe, Africa, w Asia
Geographic abreviations (used above): n =north, s = south, e = east, w = west, c = central